Newspaper Articles

Pakistan’s Foreign Office: a subsidiary of ISI

BBC Urdu dot com: Pakistan’s Foreign Office has always been a subsidiary of ISI

پاکستانی وزارتِ خارجہ: طفیلی ادارہ!

نواز شریف، بینظیر

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نہ صرف بھارت سےبہتر تعلقات بلکہ افغان صورتحال سے بھی پاکستان کو مرحلہ وار الگ کرنے کے خواہش مند تھے۔

آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ پالیسی ساز ادارہ نہیں بلکہ دی گئی پالیسی پر عمل درآمد کرنے والا ادارہ ہے۔ ان کے بقول پاکستان چونکہ ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے اس لیے دفترِ خارجہ کو پالیسی ساز خطوط بڑی حد تک فوج کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے سفارت کار فراہم کردہ پالیسی پر عمل درآمد کا ذیلی کردار ہی ادا کرسکتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی سفارتخانے دراصل وہ شے فروخت کرنے والے پرچون کاؤنٹر ہیں جسے بنانے میں ان کا یا تو نہایت معمولی کردار ہے یا بالکل نہیں ہے۔ جنرل درانی نے یہ بات اخبار ڈان کے مطابق اسلام آباد میں خارجہ پالیسی کے موضوع پر ہونے والی ایک ورکشاپ میں اپنے مقالے میں کہی۔

روس میں پاکستان کے سابق سفیر شاہد امین نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفترِ خارجہ کو پالیسی بنانے کی آزادی کبھی بھی میسر نہیں رہی اور فوج کو ہمیشہ خارجہ اور دفاع کی پالیسی میں بالادستی رہی ہے۔ ایک آمرانہ فضا میں حکمران دفترِ خارجہ سے پیشگی صلاح مشورے کے بغیر فیصلے کرنے کے عادی رہے ہیں اس لیے پالیسی منصوبہ بندی کا تصور پنپ نہیں سکا۔

سابق سکریٹری خارجہ شمشاد احمد نے مذکورہ مقررین کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بہت مرتبہ منتخب نمائندوں سے بالا بالا ایسے ناقص فیصلے کیے گئے جو بروقت نہیں تھے۔ لہذا ان میں یا تو تبدیلی کرنی پڑی یا پھران فیصلوں کو یکسر واپس لینا پڑا۔ یہ فیصلہ تاریخ ہی کرسکتی ہے کہ ہم نے یہ پالیسیاں کیوں اور کیسے اپنائیں۔

ضیا دور میں غیرملکی سفارتکار مزے لے لے کر بتاتے تھے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ میں وزارتِ دفاع سے زیادہ فوجی افسر نظر آتے ہیں

]طارق فاطمی

سابق سرکردہ سفارتکار طارق فاطمی نے کہا کہ ضیا دور میں غیرملکی سفارتکار مزے لے لے کر بتاتے تھے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ میں وزارتِ دفاع سے زیادہ فوجی افسر نظر آتے ہیں۔ طارق فاطمی کے بقول افغانستان اور بھارت سے متعلق ہمیشہ دو خارجہ پالیسیاں متوازی انداز میں چلائی گئیں۔ ایک پالیسی دفترِ خارجہ چلاتا تھا اور دوسری پالیسی انٹیلی جنس ایجنسیاں۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نہ صرف بھارت سےبہتر تعلقات چاہتے تھے بلکہ افغان صورتحال سے بھی پاکستان کو مرحلہ وار الگ کرنے کے خواہش مند تھے لیکن دونوں رہنماؤں کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایسا نہیں کرنے دیا۔

سابق سکریٹری خارجہ تنویر احمد خان نے اپنے مقالے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو اڑتالیس میں راولپنڈی میں سینئر افسروں کے ایک گروپ نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو آمادہ کرلیا کہ وہ سوویت یونین نہیں جائیں گے۔ اس کے بعد لیاقت علی خان امریکہ چلے گئے۔ تنویر احمد خان کے بقول یہ گروپ اس رحجان کا آغاز تھا جسے آج کل ہم اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں۔

خارجہ پالیسی پر یہ اور دیگر ماہرین کے مقالے جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر مونس احمر نے ’ فارن پالیسی میکنگ پروسس۔ آ کیس سٹڈی آف پاکستان‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کردیے ہیں۔ ڈاکٹر مونس نے کتاب کے تعارف میں بتایا کہ کس طرح فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیاں فارن پالیسی کی تشکیل میں دفترِ خارجہ، پارلیمنٹ، رائے عامہ اور سول سوسائٹی کے کردار پر اثرانداز ہوتی آئی ہیں۔ حالانکہ ان سویلین اداروں کی رائے اگر خارجہ پالیسی میں منعکس ہو تو اس کے سبب بیرونی دنیا سے پاکستان کے تعلقات صحت مند خطوط پر استوار رہ سکتے ہیں