Newspaper Articles

A new Musharraf-Nawaz deal sponsored by Saudi Arabia

Musharraf reaches Riyadh as royal guest

Daily Times Monitor

LAHORE: Former president General (r) Pervez Musharraf arrived in Riyadh on Monday, where he will meet Saudi King Abdullah, a private TV channel reported.

Musharraf’s legal adviser Chaudhry Fawad said the former president had reached Saudi Arabia on a special plane sent by the Saudi king and would be staying in the kingdom as a special guest of the Saudi royal family.

Fawad said King Abdullah would host an Iftar dinner for the former president.

Meanhile, Interior Minister Rehman Malik has left Saudi Arabia for Pakistan. he said he had not met Musharraf there.

مشرف: سعودی عرب میں کچھ ہونے کے اشارے

پرویز مشرف

جنرل(ر) مشرف شاہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پیر کو سعودی عرب پہنچے والے ہیں۔ یہ طیارہ انہیں سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ نے بھیجا ہے۔

سعودی عرب میں ان کی آمد کی تصدیق پاکستان کے سابق وزیر برائے بہبودِ آبادی چوہدری شہباز حسین نے کی ہے۔ چوہدری شہباز اپنے کاروباری مقاصد کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہیں۔

جنرل(ر) مشرف شاہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے اور ان کی آمد کی خبریں پچھلے کئی دن سے گشت کر رہی تھیں۔ اگرچہ ان خبروں کی کسی سرکاری ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔

پاکستان کے سفارت کاروں نے نجی طور پر تو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بھی اس بارے میں سنا ہے تاہم سفارتی سطح پر اس کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کا عملہ سابق صدر سے دور ہی رہتا ہے گذشتہ سال بھی جب سابق صدر مختصر دورے پر ریاض آئے تھے تو سفارتی عملہ ان کے آس پاس کہیں دکھائی نہیں دیا تھا۔

بعض سعودی اخبارات میں گزشتہ چند روز کے دوران پروز مشرف کی آمد کے بارے میں جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پہنچنے سے قبل سابق صدر دوبئی میں اپنے قابلِ اعتماد ساتھیوں سے ملاقات میں اپنے آئندہ اقدام کے بارے میں صلاح مشورہ کریں گے۔

اس کے ساتھ یہ خبر بھی ہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک بھی جدہ میں ہیں۔ ان کی موجودگی اور سعودی عرب میں آمد پر ان کے خیرمقدم کے انداز نے ان کی آمد کو زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

سنیچر کی صبح رحمٰن ملک جب جدہ پہنچے تو سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستانی وزرا کی آمد کو اس سطح کی اہمیت کم ہی دی جاتی ہے اور شہزادہ نائف کا استقبال کے لیے آنا اس لیے بھی اہم تھا کہ ایک روز قبل ہی ان پر خود کش حملہ کیا گیا تھا۔

اتوار کو رحمٰن ملک نے شاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ علیحدگی میں ہونے والی یہ ملاقات پینتالیس منٹ تک جاری رہی، جو ایک غیر معمولی بات ہے۔

رحمٰن ملک

سعودی عرب میں رحمٰن ملک کے خیرمقدم نے ان کی آمد کو زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

عام طور پر پاکستانی وزرا کو سعودی شاہ سے اس طرح علیحدگی میں ملاقات کا موقع اس وقت تک میسر نہیں آتا جب تک کوئی انتہائی معاملہ درپیش نہ ہو۔

کہا جاتا ہے کہ اگست دو ہزار آٹھ میں جب پرویز مشرف صدارت سے مستعفی ہوئے تھے تو سعودی عرب نے ہی انہیں باعزت رخصتی کی ضمانت دی تھی اور اس کے بعد یہ خبریں بھی آتی رہی کہ اگر انہیں ضرورت ہوئی تو سعودی عرب انہیں پناہ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے سیاسی حلقوں کے حوالے سے یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ جنرل مشرف پر پاکستان کے آئین کی دفعہ چھ کے تحت مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے اگر ایسا ہوا تو سعودی عرب اپنا اثر و نفوذ استعمال کر سکتا ہے کیونکہ مشرف کے بڑے حریف نواز شریف بھی سعودی عرب کے ممنون ہیں۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ پرویز مشرف کی سعودی عرب میں موجودگی کے دوران پسِ پردہ بہت سے معاملات کا طے پانے والے ہوں