Newspaper Articles

Victoreous Talibans establish Marriage Bureau in Swat !!

سوات میں طالبان کا ’شادی مرکز‘
عبدالحئی کاکٹر
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے رشتے کروانے کے لیے ’شعبہ عروسات‘ کے نام سے ایک الگ شعبہ قائم کردیا ہے
اور طالبان کے مطابق ان کی فہرست میں شامل شادی کی خواہش مند تین سو لڑکے لڑکیاں اپنی باری کا انتظار کررہی ہیں۔
سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ رشتوں کے لیے الگ شعبہ کچھ عرصےقبل قائم کیاگیا ہے جس کی سربراہی ابو عماد نامی ایک طالب کمانڈر کررہے ہیں۔ ان کے بقول اسے ’شعبہ عروسات‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ان مردوں اور خواتین کے رشتے کروانے ہیں جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر خاندان والے کسی نہ کسی حوالے سے انہیں ایسا کرنا نہیں دے رہے ہیں۔
ان کے بقول انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک فون نمبر مختص کیا ہوا ہے جس پر لڑکے یا لڑکیاں رابطہ کرکے اپنی مرضی سے شادی کے خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور طالبان ان کے کوائف اپنے پاس درج کرنے کے بعد ان کے خاندان والوں سے رابط کرتے ہیں۔ان کے بقول اپنی مرضی سے شادی کرنا ہر مسلمان کا شرعی حق ہے۔
مسلم خان کا کہنا تھا کہ انہیں زیادہ تر ان لڑکیوں یا ا ن کے خاندان والوں کی طرف سے فون موصول ہوتے ہیں جو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ شادی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ نو دنوں کے دوران گیارہ جوڑوں کی شادیاں کرائی گئی ہیں جبکہ تین سو لڑکے لڑکیاں ایسی ہیں جنہوں نے فہرست میں نام لکھوایا ہے اور اب وہ اپنی باری کا انتظار کررہی ہیں۔ان کے مطابق اس قسم کے رشتوں میں شادی بیاہ کی تقریبات شان و شوکت سے نہیں بلکہ محض سادگی کے ساتھ نکاح پڑھوانے کے بعد رخصتی ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے محلے میں ایک لڑکی ہے جس کے ساتھ ایک لڑکا شادی کرنا چاہ رہا تھا مگر خاندان والوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے بقول لڑکے نے طالبان سے رابطہ کیا جنہوں نے بعد میں لڑکی کے خاندان والوں کو زبردستی دونوں کے نکاح کرنے پر مجبور کردیا۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے طالبان کے حالیہ اقدام کا مقصد دراصل طالبان جنگجوؤں کی اپنی مرضی سے شادی کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو طالبان نے سوات میں لڑکی اور لڑکے کو اس بنیاد پر کوڑوں کی سزائیں دینے کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے آپس میں ساتھ مبینہ طور پر رابطہ رکھا تھا اور دوسری جانب اب وہ خود مرضی سے شادی کرنے والے لڑکی اور لڑکے کے درمیان رشتے کرانے کی بات کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو دیکھے بغیر شادی کی خواہش کریں۔ ان کے بقول اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اسکا مطلب ہے کہ طالبان کی سوچ میں یا تو تضاد پایا جاتا ہے یا پھر انہوں نے خود اپنے رشتوں کے لیے ایک محفوظ راستہ تلاش کر نے کی کوشش کی ہے۔
یاد رہے کہ سوات میں ڈیڑھ سال کی فوجی کاروائی کی بظاہر ناکامی کے بعد ہونے والے معاہدے کے بعد سوات مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ حکومت نے طالبان کے مطالبے پر وہاں نظام عدل ریگلولیشن کےتحت قاضی عدالتیں قائم کردی ہیں۔اگرچہ حکومت اور مولانا صوفی محمد کا مؤقف ہے کہ وہاں پر صرف عدالتی شریعت نافذ ہوچکی ہے اور زندگی کے باقی شعبوں پر اسکا اطلاق نہیں ہو رہا مگر طالبان نے عملاً اسے زندگی کے دیگر شعبوں پر نافذ کرنا کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔