Newspaper Articles

A wake up call: Is Talibanisation now creeping in cities of Sindh — The land of Sachal and Lal Shahbaz Qalandar ??

File photo of famous Lal Mosque Brigade

Extremists disrupt dance programme
LARKANA, April 4: Unidentified men forced the cancellation of a spring fair near Larkana on Friday after they objected to the presence of dancing girls. According to organisers, the “hoodlums belonged to the Jamiat Ulema-i-Islam. However a JUI leader, Abdul Razzak Abid Lakho, disowned the assailants, saying that “we had merely requested the organisers to stop the dance. We have nothing to do with the disruption.” Sources in Waggan town said a group of JUI workers pulled up at the exhibition ground after Friday prayers and told the organisers to cancel the “vulgar dance” and expel the 12 dancers. “Otherwise you will be responsible for the consequences”. The men had brought with them a number of veils in order to shame the authorities. The terrorised dancers left the scene immediately and the organizers had no option but to cancel the programme.
Source: Daily Dawn, 5th April, 09
===================================================================

پنجاب کی رقاصائیں سندھ بدر
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ میں جاری بسنت میلے میں فن کا مظاہرہ کرنے والی رقاصاؤں نے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کے ایک مقامی راہنما اور کارکنوں کے کہنے پر علاقہ چھوڑ دیا ہے۔ انہیں پردے کے لیے اجرک تحفہ پیش کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر علاقے سے نکل جانے کو کہا گیا تھا۔
جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبدالرزاق عابد لاکھو نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے انڈس ہائی وی پر اپنے علاقے وگن میں جاری بسنت میلے کی شکایت ضلعی پولیس انتظامیہ سے کی تھی اور ان کے تعاون سے رقاصاؤں کو علاقہ چھوڑدینے کو کہا تھا۔
جے یو آئی کے ترجمان کےمطابق ان کے چھ راہنماؤں پر مشتمل وفد مقامی پولیس افسر کے ہمراہ رقاصاؤں کے پاس پہنچا اور انہیں رقص بند کرنے کو کہا۔ مولوی لاکھو کےمطابق انہوں نے رقاصاؤں کی دو سربراہ خواتین کو پردے کے طور پر اجرک کا ’تحفہ‘ پیش کیا اور انہیں فوری طور پر علاقہ چھوڑ دینے کو کہا۔
بسنت میلے میں اٹھارہ رقاصائیں اپنا فن پیش کر رہی تھیں جو مذہبی تنظیم کے وفد کی آمد کے بعد ایک گھنٹے کے اندر علاقہ چھوڑ گئی ہیں۔ وگن میں بسنت میلہ دس روز کے لیے لگایا گیا تھا مگر منتظمین کے مطابق مذہبی تنظیم کی شکایت کے باعث انہوں نے تین دن میں بسنت میلے کا اختتام کردیا ہے۔
سندھ کو عام طور پر صوفیا کی سرزمین کہا جاتا ہے اور صوفیانہ کلام عوام کی اکثریت میں مقبول ہے مگر گزشتہ چند ماہ سے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے کارکن محفل ِموسیقی کے خلاف اپنے اکثریتی علاقوں میں اعتراض کرتے رہے ہیں۔
تین ماہ پہلے نوابشاہ میں مقامی ٹی وی نیٹ ورک سندھ ٹی وی کی طرف سے نوابشاہ میں منعقد ہونے والے میوزک شو کو بھی جمعیت علماء اسلام کے اعتراض کے بعد عدالتی حکم پر بند کیا گیا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام نوابشاہ کے راہنماؤں نے سندہ ٹی وی کے میوزک شو کے خلاف مقامی عدالت میں کیس فائل کیا تھا اور عدالتی حکم کے بعد ٹی وی کے میوزک شو کو بند کر دیا گیا تھا۔
جے یو آئی کے کارکنان نے سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ٹی وی، ڈش اور کیبل کے خلاف وال چاکنگ بھی کی ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ قیامت کے تین آثار ڈش، کیبل اور وی سی آر ہیں۔
جماعت کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا ہے کہ وہ عدم تشدد کے حامی ہیں لیکن سندہ میں جہاں کہیں ان کی جماعت کی اکثریت ہوگی وہ محفل موسیقی پر قانونی طریقے سے پابندی کےلیے کوششیں کرتے رہیں گے کیونکہ بقول ان کے موسیقی شریعت میں حرام ہے اور ان کا پیغام ہے کہ موسیقی نہیں قرآن سنو۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ سندہ کے صوفی بزرگوں کے کلام پر انہیں اعتراض نہیں اور اسی لیے انہوں نے کبھی عابدہ پروین یا علن فقیر کی محفل پر اعتراض نہیں کیا ہے مگر وہ فحاشی اور عریانی کی اجازت نہیں دیں گے اور بقول ان کے ’پنجاب کی رقاصاؤں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سندہ کی سادہ لوح عوام کی جیبیں لوٹ لیں۔