Original Articles Urdu Articles

Pakistan’s nuclear assets are not at risk – by Khalid Wasti

پاکستان کے ایٹمی اثاثے خطرے میں نہیں ہیں


×××× ————- پاکستان خطرے میں ہے –
جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فوج کی بالا دستی قائم رکھنے کے لیئے ، ملک کے ساٹھ فیصد سے زائد بجٹ کو اپنے تصرف میں لینے کے لیئے بولا جانے والا سفید جھوٹ –

×××× ————- اسلام خطرے میں ہے –
جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فوج کی ضروریات اور اس کے مقاصد کو پورا کرنے والا ایک مائینڈ سیٹ تیار کرنے کے لیئے مُلاں کا پھیلایا ہوا جھوٹ – جس کا عوضانہ مُلاں نے پاور سٹرکچر میں حصہ لینے اور معاشرے کے اندر ایک جھوٹے تقدس اور جعلی پاکبازی کا مقام پانے کی صورت میں حاصل کیا –

×××× ————- فلاں ، فلاں ، فلاں امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان کا ایجینٹ ہے امت ِ مسلمہ میں انتشار وافتراق پیدا کر نے کی سازشوں میں مصروف ہے –
جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پراپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ مُلاں اپنی کارستانیوں پر پردہ ڈال سکے – سوال یہ ہے کہ ہندو اور یہودی اگر مسلمانوں کو فرقہ پرستی اور گروہ بندی کا شکار کرکے باہم بر سر پیکار
کرنا چاہتے ہیں تو مُلاں یہ فرائض پہلے سے سرانجام دے رہا ہے – اس لیئے اس ملک میں اگر کوئی اسرائیل یا ہندوستان کا ایجینٹ ہے تو وہ صرف مُلاں ہے –

×××× ————- ہم امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں –
جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مُلاں کی طرف سے یہ پراپیگنڈہ رائے عامہ کو تقسیم کرنے کے لیئے کیا جاتا ہے تاکہ پوری قوم یکسوئی کے ساتھ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے والی طاقتوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہو سکے

سوال یہ ہے کہ پشاور ، لاہور اور کراچی میں جن بے گناہوں کا خون بہایا جارہا ہے کیا وہ سب امریکی شہری ہیں جن کی جانیں بچانے کے لیئے امریکہ ہماری سرحدوں پر آگیا اور اب ہم امریکہ کی
جنگ لڑ رہے ہیں؟

کیا معاملہ اس کے برعکس نہیں ہے، یعنی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے معصوم بچے ، مرد اور عورتیں پاکستانی شہری ہیں اور ان پاکستانی شہریوں کے جو دشمن ہیں وہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی پاکستانی

کیا یہ ایک پیچیدہ بات ہے جو سمجھ میں نہ آسکے کہ ہمارے دشمن کو ختم کرنے کے لیئے جو ملک بھی ہماری مدد کرے درحقیقت وہ ہماری جنگ لڑ رہا ہے ، خصوصا ان حالات میں کہ نہ ہی وسائل اور نہ ہی تکنیک کے حوالے سے یہ ہمارے بس کا روگ ہے کہ ہم اُس عفریت پر قابو پاسکیں جسے ساٹھ سال تک مُلا ملٹری الائنس نے دودھ پلا پلا کر پروان چڑھایا


×××× ————- پاکستان کے ایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں – امریکہ ان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے –
جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی مُلاں کا پھیلایا ہو ا جھوٹ ہے تاکہ حیلوں بہانوں سے در پردہ مُلائییت ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حق میں ایک رائے عامہ تیار رکھی جائے جو نیٹو فورسز ، امریکی فوج اور پاکستان آرمی کے مشترکہ مشن کو ناکام کر سکے اور مُلاں کو ایک زندگی مل جائے ، جسے اس وقت اپنی موت نظر آرہی ہے

یقین جانئیے کہ پاکستان نہ کبھی کسی بیرونی خطرے میں تھا نہ ہے ، اسلام کبھی کسی بیرونی خطرے میں نہ تھا نہ ہے ، پاکستان کے ایٹمی اثاثے نہ کبھی خطرے میں تھے نہ ہیں – پاکستان کے لیئے ہمیشہ ایک ہی خطرہ رہا ہے اور وہ ہے مُلاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مُلاں جو قیام پاکستان کا مخالف تھا ، قائد اعظم کا دشمن تھا ، قائد اعظم کو کافر اعظم کہتا تھا ، قائد اعظم کی حکومت کو کافرانہ حکومت کہتا تھا ۔۔۔۔۔ تب بھی پاکستان کے لیئے خطرہ تھا اب بھی پاکستان کے لیئے خطرہ ہے – پاکستان کو بچانا ہے تو مُلاں اور مُلاں کی پھیلائی ہوئی مُلائییت کو صفحہءہستی سے مٹانا ہوگا – و آخرنا و دعونا ان الحمد للہ رب العالمین

About the author

Khalid Wasti

Born in Punjab, Pakistan in 1953. Worked in UBL for 23 years. Migrated to the USA in 2002.
As a poet I have been published in prominent Urdu magazines in Pakistan & India.

5 Comments

Click here to post a comment
  • […] This post was mentioned on Twitter by Farhad Ahmed Jarral, Let us build Pak. Let us build Pak said: پاکستان کے ایٹمی اثاثے خطرے میں نہیں ہیں: ×××× ————- پاکستان خطرے میں ہے – جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فوج کی بالا دست… http://bit.ly/9zbvhy […]

  • ہم پاکستانی عجیب و غریب تضادات کے شکار ہیں۔ کھوکھلے نعروں اور بے بنیاد جذباتی فلسفوں میں اپنی غلاظتوں کو چھپاکر ہم دنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن خود بے وقوف بن کر اپنی ذلت و تباہی کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔ ہر ایشو پر ہونے والی احتجاج سے دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ شاید پاکستان ہی اسلام کا قلعہ ہے جہاں مغرب سے نفرت کرنے والے حساس اور جہادی مسلمان بستے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ رحمت اللعالمین کے لائے ہوئے دین کی توہین کے سب سے زیادہ مرتکب خودہم پاکستانی ہورہے ہیں ۔ جس نبی کے نام پر ہم ہر وقت سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں ‘ وہ رحمت اللعالمین تھے لیکن کون نہیں جانتا کہ ان کے یہ پاکستانی امتی زحمت اللعالمین بن گئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں تخریب کاری اور دونمبری کا کوئی بھی واقع رونما ہو‘ اس میں کہیں نہ کہیں کسی پاکستانی کا ہاتھ نکل آتا ہے۔ سبزگنبد والے سرکار کے نام پر زیادہ محافل یہاں منعقد ہوتی ہیں لیکن اس ملک کا سبز پاسپورٹ دنیا بھر میں دہشت اور دھوکے کی علامت قرار پایا ہے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں میں پاکستانی اپنی آبادی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہیں لیکن وہ انسانی جان جس کی حرمت کو نبی رحمت نے خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس قرار دیا تھا‘ کی بے قدری سب سے زیادہ یہاں پر کی جاتی ہے ۔ جس پیغمبر کے نام پر ہم ہمہ وقت سڑکوں پر رہتے اور کفر کے فتوے بھانٹتے رہتے ہیں ‘ انہی پیغمبر اسلامنے رشوت لینے والے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا ہے لیکن ہم پاکستانی اس حوالے سے دنیا بھر میں نمبرون بنتے جارہے ہیں۔ آپنے دوران جنگ بھی غیرمتحارب انسان تو کیا جانوروں اور درختوں کو بھی کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید کی تھی‘ لیکن یہاں اسلام کے نام پر غیرمتحارب انسانوں کو قتل کیاجاتا ہے۔ آپنے حکم دیا تھا کہ ”اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کے آئے تو پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو“لیکن یہاں دین کے علم بردار بھی تحقیق کئے بغیر ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلاتے اور لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرتے رہتے ہیں۔ آپکے لائے ہوئے قرآن کے مطابق جہنم میں منافق کا مقام کفار سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے اور آپنے منافق کی چارنشانیاں بیان کی تھی۔ بدقسمتی سے ان چارنشانیوں (خیانت‘ وعدہ خلافی‘ جھوٹ‘گالی دینا) میں ہم پاکستانیوں کا کوئی ثانی نہیں۔آپ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا تھا لیکن ہمارے گلی کوچے‘ ہوٹل‘ سکول‘ دفاتر‘ حتٰی کہ مدارس تک میں گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ اسی طرح آگے بڑھتے جائیں آپ کو اسلام کے نام پر بننے والے اور دین کے بارے میں حساس تصور کئے جانے والے مسلمانوں کا مسکن یہ مملکت خداداد پاکستان مذہبی‘ اخلاقی بلکہ انسانی زوال کے آخری حدوں کو چھوتا ہوا نظر آئے گااورشاید اسی لئے افتخار عارف پکار اٹھے تھے
    رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
    امت سید لولاک سے خوف آتا ہے
    سوال یہ ہے کہ یہ قتل وغارت‘ یہ منافقت‘ یہ جھوٹ‘ یہ ملاوٹ ‘ یہ گندگی‘ یہ بغض‘ یہ حسد اور یہ دیگر غلاظتیں اور قباحتیں کیا رحمت للعالمین کے لائے ہوئے دین کی توہین نہیں ؟ اور اگر یہ توہین ہے تو پھر آئے روز ہر گھر ‘ ہر محلے اور ہر دفتر میں ہونے والے اس توہین پر ہمارے سیاسی و مذہبی لیڈر اور علماء خاموش کیوں ہیں؟ ان برائیوں‘ جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کررہی ہیں‘ جوہمیں دنیا کی نظروں سے گرارہی ہیں ‘ جو دنیا کو ہمارے خلاف اقدام پر اکساتی ہیں اور جن کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف جنم لینے والی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بعض بدبخت مغربی گروہ یا افراد بار بار ہمارے پیغمبر کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں‘ کے خلاف ہمارے دینی و سیاسی رہنما اور علماء حساسیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ ان برائیوں کے خلاف احتجاج کیوں نہیں ہوتے؟ ان کے خاتمے کے لئے ملین مارچ کیوں نہیں نکالے جاتے ؟ سوال یہ ہے کہ نبی رحمت نے اپنی زندگی کا کتنا حصہ اس وقت کی مخالف طاقتوں کے خلاف احتجاج میں صرف کیا تھا اور کتنا حصہ اپنی قوم کے تزکیہ نفس کرنے اور مذکورہ برائیوں کے خاتمے کیلئے صرف کیا تھا؟اسلام دشمن استعماری طاقتوں کے خلاف احتجاج بجا لیکن آئیے ذرا ایک لمحے کے لئے اپنی اداؤں پر غور کی زحمت بھی گوارا کرلیتے ہیں۔

    اپنی اداؤں پر غور کی ضرورت ….جرگہ…سلیم صافی
    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=437799

  • نہ پاؤ گے تورابورا میں
    دہشت گردی کی جڑ منصورہ میں

  • Farhan Q :
    نہ پاؤ گے تورابورا میں
    دہشت گردی کی جڑ منصورہ میں

    How CIA and other such outfits work?

    ISLAMABAD: One of the top security agencies on Wednesday picked up Raja Ehsan Aziz, a member of Tehrik-e-Islami (TI), for his alleged connections with terrorists who had attacked the Parade Lane Mosque in Rawalpindi and Moon Market in Lahore. Tehrik-e-Islami is a splinter group of the JI. Two female members of the Tehrik have already been taken into custody. Sarwat Wahid, another female member whose son’s car was used in the Parade Lane Mosque attack, is missing. Also her son, Jawad, who was studying in Faisalabad after doing A Level from Beacon House School System, is missing. Aziz, a graduate of Columbia University who also served on senior positions at the Foreign Office, is a retired professor of International Relations, Quaid-i-Azam University. His elder son is an Army doctor. Aziz was taken away from his house in G/10-3 on Wednesday evening by sleuths of the Counter-Terrorism Cell, his wife Amira Aziz told The News. Amira, an ex-MNA of Jamaat-e-Islami and now a Shura member of the Tehrik, is a religious scholar and writes columns in an Urdu daily. Aziz’s driver, Phool Zeb from Nowshera, has already been arrested as investigators found a mobile SIM allegedly used for conversation during the attacks on the Parade Lane Mosque and Moon Market, was issued in his name. Likewise, the car used in the mosque attack belonged to Jawad, the son of a Tehrik-e-Islami woman, Sarwat Wahid, a resident of I-8 Sector, Islamabad. Both of them are missing since then. Likewise, Aziz’ son, Omer, a student of Islamic International University, has not returned home for the last five days.

    Jamat e Islami Terrorist Dr. Usman was mastermind of Attack on GHQ
    URL: http://www.youtube.com/watch?v=SeUXYXiAkyM&feature=player_embedded

    Aziz has been picked up for the second time, his wife said, denying any links of the family with terrorism incidents. “I’m a sworn enemy of America and can pay any price for it but I strongly oppose terrorism within Pakistan,” Amira Aziz told The News. She said the intelligence operatives had been following the women activists of Tehrik-e-Islami for the last six months and harassed them. She alleged that her husband was beaten black and blue when picked up last time and kept in illegal custody for a night. Amira said her son, Omer, a heart patient, was very upset when intelligence guys kept his father in their custody for a night. A female member of Tehrik, Najma Sana, who lives in G-9/1, is already in the agency’s custody for the last 10 days. Sarwat Wahid, after being chased by the intelligence agency, left Islamabad for Karachi where she was again pursued by the police. Her sister and children in Karachi have been arrested to press for recovery of Sarwat who has gone underground there. Sarwat’s son, Jawad, is also missing. Tahira Mumtaz, another female member of the Tehrik, was twice called for investigation over her alleged assistance to Sarwat to flee the capital. Altaf Aziz Khattack, SHO, said he was not aware of any such incident. He asked this correspondent to take up the matter with the R A Bazaar police in whose jurisdiction the mosque was attacked. When contacted, officials of the concerned police station said that they had not arrested Ehsan Aziz, adding the Army was investigating the attack and the matter may be taken up with them. The DG ISPR could not be contacted. REFERENCE: JI splinter group leader, females held for links to suicide attackers Friday, December 18, 2009 By Umar Cheema http://thenews.com.pk/daily_detail.asp?id=214063