Newspaper Articles Video Clips

Protest in Aliabad Hunza against NDMA and government – Zulfiqar Ali Khan

Source Pamir Times:


Hunza, May 12: Hundreds of people participated in a peaceful protest in Aliabad, sub-divisional headquarter of Hunza, against the widespread destructions in Gojal Tehsil due to inability of the authorities to drain the lake formed on Hunza River according to announced target dates. The protest was addressed by leaders of nationalist parties, office bearers of Hunza Business Association and Hunza-Nagar Transport Associations. The protestors blocked KKH for four hours and chanted slogans against the role of the Government and the National Disaster Management Authority.

The protesters blamed General (rtd.) Farooq Ahmed Khan, the former Chairman NDMA, for playing ‘a suspicious role during the disaster’. They demanded of the Government to register FIR against NDMA for consciously letting the community and state properties submerge in the lake.

They said the authorities were not serious in earlier release of water from the lake which has now submerged more than 90 houses, thousands of kanals of lands and domesticated plants in Shishkat, Ayeenabad and Gulmit. They said the authorities are responsible for inundation of the 15 kilometer of the strategic Karakoram Highway and the bridges connecting Pakistan and China.

They said the Government has not taken concrete steps to reduce the sufferings of the people after 129 days for the incident. The speakers also said that removal of the bridge between Gilgit and Danyore has resulted in hiked prices of petroleum and essential goods in Hunza-Nagar district. They also blamed the Gilgit police and administration for taking bribes to allow the crossing of the trucks to Hunza-Nagar.

About the author

Laila Ebadi

6 Comments

Click here to post a comment
  • ’جھیل کا بند ٹوٹنے کا فوری خطرہ نہیں‘

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریائے ہنزہ میں بننے والی مصنوعی جھیل کا بند ٹوٹنے کا فوری طور پر کوئی خطرہ موجود نہیں ہے اور پانی کے اخراج کے لیے سپل وے کی تعمیر کا کام نوّے فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔

    راولپنڈی میں صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں پاکستانی فوج کی انجینئرنگ برانچ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز کا کہنا تھا کہ سپل وے کی تعمیر سے سیلاب کا خطرہ پچاس فیصد تک کم ہوگیا ہے۔

    بی بی سی اردو کے آصف فاروقی کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپل وے کی تعمیر کا کام آئندہ دس دن میں مکمل ہو جائے گا اور مئی کے اواخر میں اس سپل وے میں پانی آنا شروع ہو جائے گا۔

    جنرل شاہد نیاز نے کہا گرمی کی شدت بڑھتے ہی اس جھیل میں پانی کی آمد میں تیزی آئے گی اور ایک اندازے کے مطابق چھ سے آٹھ ہفتے کے بعد جھیل کے پانی کے اخراج کے لیے بنایا جانے والا سپل وے ٹوٹ جائے گا جس کے نتیجے میں جھیل کے زیریں علاقوں میں درمیانے درجے کا سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔

    چھ سے آٹھ ہفتے کے بعد جھیل کے پانی کے اخراج کے لیے بنایا جانے والا سپل وے ٹوٹ جائے گا جس کے نتیجے میں علاقے میں درمیانے درجے کا سیلاب آئے گا جس سے تیس دیہات متاثر ہوں گے۔
    لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز
    لیفٹنٹ جنرل شاہد نیاز نے بتایا کہ اس وقت جھیل میں ایک لاکھ ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جو جون کے آخر تک ایک لاکھ اڑتیس ہزار ایکڑ فٹ ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ وقت ہو گا جب سپل وے پانی کے دباؤ سے ٹوٹے گا۔

    تاہم انہوں نے بتایا کہ چونکہ سپل وے کےذریعے جھیل سے پانی بیس مئی کے بعد سے نکلنا شروع ہو چکا ہو گا لہذاٰ اس وقت اس ممکنہ سیلاب کی شدت پچاس فیصد تک کم ہو جائے گی۔ فوج کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ سپل وے ٹوٹنے کے بعد جھیل میں سے بیشتر پانی چار سے چھ گھنٹے کے دوران نکلے گا اس کے باوجود یہ جھیل مکمل طور پر خالی نہیں ہو گی۔

    انہوں نے بتایا کہ اس ممکنہ سیلاب سے دریا کے بہاؤ کی جانب واقع تیس دیہات اور چار پل متاثر ہوں گے اور اس علاقے کو سیلاب کی تباہی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    یہ جھیل اور اس کا پانی تربیلا ڈیم کے حجم کا چار فیصد بھی نہیں ہے لہذاٰ بد ترین صورتحال میں بھی تربیلا ڈیم کو اس جھیل کے ٹوٹنے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
    فوجی حکام
    جنرل شاہد نے بتایا کہ اگر یہ سپل وے نہ بنایا جاتا تو اس جھیل میں سوا دو لاکھ ایکڑ فٹ پانی جمع ہو جاتا اور اس وقت اگر یہ جھیل ٹوٹتی تو سارا پانی ایک گھنٹے میں خارج ہوتا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔

    اس ممکنہ سیلابی ریلے سے تربیلہ ڈیم کو لاحق خطرات کے بارے میں ایک سوال پر پاک فوج کے انجینئر ان چیف نے بتایا کہ یہ جھیل اور اس کا پانی تربیلا ڈیم کے حجم کا چار فیصد بھی نہیں ہے لہذاٰ بد ترین صورتحال میں بھی تربیلا ڈیم کو اس جھیل کے ٹوٹنے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ادھر ہنزہ میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار رضا ہمدانی کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی جھیل اب پچیس کلومیٹر تک پھیل چکی ہے اور اس کے رقبے میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جھیل کے رقبے میں اضافے سے پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہِ قراقرم کا ایک حصہ بھی زیرِ آب آ گیا ہے۔

    اگر یہ سپل وے نہ بنایا جاتا تو اس جھیل میں سوا دو لاکھ ایکڑ فٹ پانی جمع ہو جاتا اور اس وقت اگر یہ جھیل ٹوٹتی تو سارا پانی ایک گھنٹے میں خارج ہوتا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔
    لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز
    نامہ نگار کے مطابق جھیل کا پانی دریا کے بہاؤ کے مخالف سمت واقع حسینی نامی گاؤں تک پہنچ گیا ہے اور یہ زیرِ آب آنے والا چوتھا گاؤں ہے۔ اس سے قبل عطا آباد، آئین آباد اور ششکت کے علاقے مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں اور وہاں کے مکین امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    جھیل کے راستے میں آنے والا گلمت نامی گاؤں اگرچہ مکمل طور پر زیرِ آب نہیں آیا ہے تاہم یہاں سے آبادی کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔ گلمت کے مقامی لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوتے ہوئے اپنے گھروں سے دیگر ضروری سامان کے علاوہ دروازے اور کھڑکیاں بھی اکھاڑ کر لے جا رہے ہیں تاکہ پانی اترنے کے بعد اسی سامان کو گھروں کی دوبارہ تعمیر میں استعمال کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ چار جنوری کو ہنزہ کے گاؤں عطا آباد میں وسیع پیمانے پر زمین سرکنے کے باعث مٹی اور پہاڑی تودے دریائے ہنزہ میں آ گرے تھے جس کے نتیجے میں دریا کا بہاؤ رک گیا تھا اور پانی ایک جھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100513_hunza_lake_briefing.shtml

  • دریائے ہنزہ جھیل: تین دیہات ڈوب گئے

    رضا ہمدانی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ہنزہ

    جھیل کی سطح روزانہ اوسطاً چار فٹ بلند ہو رہی ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریائے ہنزہ میں بننے والی جھیل کے باعث تین دیہات مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں جب کہ ایک اور گاؤں میں پانی کسی بھی وقت داخل ہو سکتا ہے۔

    دریا کے بہاؤ کی مخالف سمت واقع علاقے میں ڈوبنے والے دیہات میں عطا آباد، آئین آباد اور ششکت کے دیہات شامل ہیں جب کہ گلمت نامی گاؤں میں بھی چندگھر زیرِ آب آئے ہیں۔

    کلِک ہنزہ میں زمین سرکنے یا لینڈ سلائیڈنگ کے مناظر

    متاثرہ علاقے میں حکومتِ گلگت بلتستان کے ساتھ کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’فوکس پاکستان‘ کے ایک اہلکار احمد دین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنوری کے اوائل میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی جھیل کی لمبائی اب سولہ کلومیٹر تک جا پہنچی ہے جب کہ اس کی گہرائی تین سو فٹ کے قریب ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جھیل کی سطح روزانہ اوسطاً چار فٹ بلند ہو رہی ہے تاہم فی الحال آئندہ چند دن تک لینڈ سلائیڈنگ سے بنے بند کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور جھیل کی سطح میں مزید پچاس فٹ اضافے کے بعد ہی بند ٹوٹنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100512_hunza_lake.shtml

    Pictures of landslide

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/01/100129_hunza_landslide_pic_rh.shtml

  • Scientist David Petley’s report on the situation:
    http://pamirtimes.net/2010/03/28/dr-david-petleys-report-on-the-attabad-landslide-lake/

    Summary:

    Key recommendations include (NB this list is not exhaustive):

    * There is a substantive risk of an outburst event caused by the landslide dam in Hunza;
    * An outburst event is most likely during or shortly after water flows across the spillway. However, such an event could be triggered by a range of other processes, some of which may provide little warning;
    * If such an event occurs, there is the potential for a large flood wave to travel downstream as far as Tarbela Dam. This wave would greatly endanger the downstream population and could cause damage to infrastructure;
    * The safe level is considered to be 60 m above the current river level, although further, more details work should be undertaken to verify this. Populations located between the river level and the safe level should be evacuated prior to the arrival of the wave. This will require precautionary evacuations for those people living immediately downstream of the dam; and emergency evacuation plans for those further downstream.
    * There is also substantive risk to people living close to terrace edges and on unstable slopes; these populations should also be protected through evacuation;
    * A flood wave would also cause substantive damage to infrastructure downstream, and the impact of the flood will pose problems in terms of livelihoods and welfare.
    * If the dam does not breach in the initial flow event, an expert group needs to be convened to determine the point at which an all clear can be given. This group must be convened before the overtopping event starts.
    * If the dam does not breach there will be a long term hazard at the site that will continue to threaten downstream communities. This will require a long term monitoring effort and a disaster plan to move the affected population at short notice. Management of this hazard will require considerable investment;
    * There will be substantive impacts on the upstream communities regardless of the future state of the dam. The nature of these impacts depends upon whether a collapse event does occur;
    * Whilst constructing the spillway is undoubtedly an appropriate first step, a great deal more work is urgently required in terms of the management of the hazard, in particular outside of the area between Attabad and Gilgit, which Focus are working upon. The downstream communities are facing a level of risk that is not tolerable – immediate action is required at national level to protect the population between Attabad and Tarbela Dam.
    * Thought is needed regarding the decision to protect the dam against erosion. Consideration should be given to intentionally allowing an outburst event with an evacuated population in order to manage the landslide hazard;
    * A substantive monitoring effort is required without delay;
    * Four alert states are recommended, underpinned by a robust communications plan and an awareness and evacuation plan for the potentially-affected population as far as Tarbela Dam.

    Full report:
    http://www.mediafire.com/?lymztmnwnzd

  • Hunza lake won’t burst: army

    ISLAMABAD: The artificial lake at the Hunza River will not burst, Pakistan Army said on Thursday. “I can say with certain amount of certainty that this lake will not burst as we have reduced the hazard by creating a 1,149 feet long, 197 foot wide spillway,” Engineer-in-Chief Lieutenant General Shahid Niaz said while addressing a joint press conference with Frontier Works Organisation (FWO) Director General Major General Najeeb Ullah. Niaz acknowledged that up to 36 villages could have been affected by flooding but now the water would start draining into the completed spillway from May 20 to 30, well before the lake could ever burst its banks.

    http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2010\05\14\story_14-5-2010_pg1_3

  • Gilgit-Baltistan students protest govt apathy over Attaabad lake

    Staff Report

    LAHORE: Students belonging to Gilgit-Baltistan (GB) held a protest outside the Lahore Press Club (LPC) against the negligence of the government to resolve the issue of an artificial lake at the Hunza River at Attaabad.

    The protestors were carrying banners and demanded the government to prepare a comprehensive plan for the affected area and shift the residents to safer places. Activists of the Progressive Youth Front, Boloristan National Students Federation, Naggar Students Federation, National Trade Union Federation and Labour Party Pakistan also participated in the protest. They demanded the government to declare an emergency in the Hunza-Naggar area and provide food and shelter to the affectees of the lake. The protestors also demanded the government to take precautionary measures, as the lake might burst in the upcoming days. Progressive Youth Front chief organiser, talking to Daily Times, said that due to the artificial lake, all the road links between Pakistan and China had been closed as some parts of the Karakorum Highway were submerged.

    He said the artificial lake was rising by three to four feet daily and would burst when it reached the height of 400 feet above the ground level. He informed Daily Times that due to the lake all communication between the Hunza and Sust valleys had been suspended.

    http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2010\05\14\story_14-5-2010_pg13_3